What is Ilme Jafr
علم جفر کیا ھے
علم جفر کی تاریخ کے متعلق ھمیں یہ ہی معلومات ملتی ھیں کہ پہلے پہل یہ شاندار، بیش بہا اور قیمتی خزانہ ابوالبشر و ابوالاانبیاء حضرت آدم علیہ السلام کو قدرت کی طرف سے عطا کیا گیا، جبکہ بعض کے نزدیک حضرت موسی علیہ السلام کو، اور اسکے بعد پھر انھی عظیم و برگزیدہ ہستیوں میں سینہ بہ سینہ ایک دوسرے میں منتقل ھوتا رھا اور سینہ بہ سینہ منتقل ھوتے ھوتے خاتم انبیین سرکار دو عالم امام الاانبیاء حضرت محمد مصطفۓﷺ کے سینہ مبارکہ میں منور ھوا اور پھرآپ ﷺ نے اس علم سے مکمل طور پر حضرت علی کرم اللہ وجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے سینہ مبارک کو روشن فرمایا، جیسے کہ آپ ﷺ کا فرمان مبارک ھے کہ :۔
"انا مدینۃ العلم و علی بابھا"۔
ترجمہ: میں علم کا شھر ھعں اور علیؓ اس شھر کا دروازہ ۔
چونکہ رسول کریم صلی اللہعلیہ و آلہ و سلم کے فرمان مبارکہ کے مطابق حضرت علیؓ تمام علوم پر غالب ھیں اور اسکی ایک نایاب و نادر منزل ھیں جو کہ پوری طرح سے صراط مستقیم کی جانب رھنمائی کرتی ھے اسی لئے منزل علوم روحانیت میں جتنے بھی بزرگان دین و ملت اور اولیاء اکرام اور صوفیائےکرام گزرے ھیں اور یا جو آئندہ آئینگےوہ تمام کے تمام نفس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے در پر ھی حاضری و جبہ سائی کرتے ھیں اور جو کچھ بھی علامات فیوض و برکات ان اولیاء اللہ صوفیاء اکرام سے ھوتی ھیں وہ سب کی سب حسب المقدور اسی بارگاہ سے عطا ھوتی ھیں اور قیامت تک ھوتی رھیں گی ۔
یہاں یہ بات یاد رکھنی بھی ضروری ھے کہ اس علم کے حصول کے خواھشمندوں کو اپنے نفس کو اپنا تابع بنانا لازم ھے نہ کہ نفس کے غلام ۔ جھوٹ، غیبت، چوری، لقمہ اور دیگر حرام چیزوں باتوں سے بچنے کے ساتھ ساتھ نماز پنجگانہ کے علاوہ نمازتہجد اور بعد از ھر نماز کے ۴۱ ۔ ۴۱ بار " یارب زدنی علما" کا ورد کرنا ۔ جوا، سٹہ، لاٹری اوردیگرغیر شرعی امور کی نقاب کشائی سے مکمل پرھیز بھی ضروری ھے جو کہ ایک جفار (علم جفر کے ماھر) کی پہچان ھی ۔
علم جفرامام جعفر صادق علیہ رحمہ و آئمہ معصومین کا پاک اور مطہر علم ھے جسکے لئے علمائے جفر فرماتے ھیں کہ :۔
"ومن منح الجھال علما اضاعہ ومن منع المستوحبین فقد ظلم" ۔
یعنی کہ جس نے جاھلوں کو یہ علم سکھایا گویا اس نے ضائع کیا اور جس نے قابل اور حقدارو مستحق سے اسکو مخفی رکھا گویا اس نے ظلم کیا ۔
علم جفر کی ایک خصوصیت یہ بھی ھے کہ یہ اپنے اعجاز ناطق ھونے کی وجہ سے نا اھل سے خود ھی دور یعنی روپوش ھوجاتاھے ۔ چاھے کوئی شخص اس پر عبور حاصل کر بھی لے اور بعد میں اسکو غلط ذرائع یا مقاصد میں استعمال کرنا شروع کردے تو اسکو غلط جواب ملنے لگتے ھیں یا پھر سطر مستحصلہ سامنے ھونے کے باوجود بھی اسکی فہم فراصت و ادراک اسکی سمجھ سے دورھوجاتی ھے اور وہ اصل حقیقت وتفصیل سمجھنے سے قاصر ھوجاتاھے ۔